السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، ثنا جَدِّي، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: صَاحَبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَأَهْدَى لَهُ رَكْبٌ مِنْ ثَقِيفٍ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ نَبِيذٍ، وَالسَّطِيحَةُ فَوْقَ الْإِدَاوَةِ وَدُونَ الْمَزَادَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ: فَشَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِحْدَاهُمَا، قَالَ حَجَّاجٌ: طَيِّبَةٌ، ثُمَّ أُهْدِيَ لَهُ لَبَنٌ فَعَدَلَهُ عَنْ شُرْبِ الْأُخْرَى حَتَّى اشْتَدَّ مَا فِيهَا، فَذَهَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَشْرَبَ مِنْهَا فَوَجَدَهُ قَدِ اشْتَدَّ، فَقَالَ: " اكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ " فَإِنَّمَا كَانَ اشْتِدَادُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بِالْحُمُوضَةِ أَوْ بِالْحَلَاوَةِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ⦗٥٣١⦘ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِيَرْفَأَ: اذْهَبْ إِلَى إِخْوَانِنَا فَالْتَمِسْ لَنَا عِنْدَهُمْ شَرَابًا، فَأَتَاهُمْ فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا هَذِهِ الْإِدَاوَةَ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ، فَدَعَا بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَاقَهَا، فَقَبَضَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ قَالَ نَافِعٌ: وَاللهِ مَا قَبَضَ وَجْهَهُ إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفرِ مکہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ثقیف کے سوار نے دو مشکیزے نبیذ کے دیے۔ آپ نے ان میں سے ایک کو پیا۔ پھر آپ کے لیے دودھ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے دودھ پیا اور نبیذ چھوڑ دی۔ پھر کچھ دیر کے بعد نبیذ پینے کے لیے آئے تو دیکھا وہ گاڑھا ہو چکا تھا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ اپنی مٹھاس یا ترش ذائقے کی وجہ سے گاڑھا ہوا ہے، اس میں پانی ملا دو۔ اسی طرح نافع رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ آپ نے اس نبیذ میں جو گاڑھا ہو گیا تھا پانی ملوایا تھا۔