السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، ثنا جَدِّي، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: صَاحَبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَأَهْدَى لَهُ رَكْبٌ مِنْ ثَقِيفٍ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ نَبِيذٍ، وَالسَّطِيحَةُ فَوْقَ الْإِدَاوَةِ وَدُونَ الْمَزَادَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ: فَشَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِحْدَاهُمَا، قَالَ حَجَّاجٌ: طَيِّبَةٌ، ثُمَّ أُهْدِيَ لَهُ لَبَنٌ فَعَدَلَهُ عَنْ شُرْبِ الْأُخْرَى حَتَّى اشْتَدَّ مَا فِيهَا، فَذَهَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَشْرَبَ مِنْهَا فَوَجَدَهُ قَدِ اشْتَدَّ، فَقَالَ: " اكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ " فَإِنَّمَا كَانَ اشْتِدَادُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بِالْحُمُوضَةِ أَوْ بِالْحَلَاوَةِ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ⦗٥٣١⦘ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِيَرْفَأَ: اذْهَبْ إِلَى إِخْوَانِنَا فَالْتَمِسْ لَنَا عِنْدَهُمْ شَرَابًا، فَأَتَاهُمْ فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا هَذِهِ الْإِدَاوَةَ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ، فَدَعَا بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَاقَهَا، فَقَبَضَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ قَالَ نَافِعٌ: وَاللهِ مَا قَبَضَ وَجْهَهُ إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ.عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سفرِ مکہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ثقیف کے سوار نے دو مشکیزے نبیذ کے دیے۔ آپ نے ان میں سے ایک کو پیا۔ پھر آپ کے لیے دودھ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے دودھ پیا اور نبیذ چھوڑ دی۔ پھر کچھ دیر کے بعد نبیذ پینے کے لیے آئے تو دیکھا وہ گاڑھا ہو چکا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے پانی سے توڑ دو۔“ اس کا گاڑھا ہونا، واللہ اعلم، ترشی یا مٹھاس کی وجہ سے تھا۔ اسی طرح نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یرفا سے فرمایا: ہمارے بھائیوں کے پاس جاؤ اور ان کے ہاں ہمارے لیے کوئی مشروب تلاش کرو۔ وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس صرف یہی چھاگل ہے اور وہ بدل چکی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے منگوایا، چکھا تو چہرہ سکیڑ لیا، پھر پانی منگوا کر اس پر ڈالا اور پی لیا۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے صرف اس لیے چہرہ سکیڑا تھا کہ وہ سرکہ بن چکی تھی۔