السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ فِي النَّبِيذِ؟ قَالَ: هُمْ يُضَعِّفُونَهُ قَالَ: وَأَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّبِيذِ، لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِمَشْهُورٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.ابن ابی مریم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ نبیذ کے بارے میں عبدالملک بن نافع کی جو روایت اسماعیل بن ابی خالد بیان کرتے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ محدثین اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع، قعقاع بن شور کا بھتیجا، نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اس پر اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہے اور اس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مشہور بات اس کے بیان کے خلاف ہے۔