حدیث نمبر: 17446
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ الْعِجْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ أَخِي الْقَعْقَاعِ بْنِ شَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ شَرَابٌ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْهُ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " رُدُّوهُ " فَأَخَذَ مِنْهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " انْظُرُوا هَذِهِ الْأَسْقِيَةَ، إِذَا اغْتَلَمَتْ فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ " ⦗٥٣٠⦘ حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ هَذَا، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ اخْتَلَفُوا فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ، فَقِيلَ هَكَذَا، وَقِيلَ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: ابْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، وَقِيلَ: مَالِكُ بْنُ الْقَعْقَاعِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے لیے ایک مشروب کا پیالہ لایا گیا۔ جب آپ ﷺ نے اسے اپنے قریب کیا تو اس سے ناگوار بو محسوس کی تو کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دو“ اور پھر لے کر اس میں پانی ملایا اور فرمایا: ”جب تم اپنے مشروب کو اس طرح سخت دیکھو تو اس کی سختی کو پانی سے توڑ دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17446
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»