السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17444
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي الْقَعْقَاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ رِيحَ نَبِيذٍ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس سے آپ ﷺ نے بو محسوس کی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ بو کیسی؟“ اس نے کہا: نبیذ کی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ وہ نبیذ آپ ﷺ کے پاس لایا گیا تو وہ بہت سخت تھا، تو آپ ﷺ نے اس میں پانی ملا لیا اور فرمایا: ”جب تمہارا مشروب سخت ہو جائے تو اس طرح اس میں پانی ملا لیا کرو۔“