السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17443
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السِّرَاجُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا دَارِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَطَاءً وَسُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَبِي رَبَاحٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَسْقُونَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَشْرَبُ مِنْهَا فَتَلْتَزِقُ شَفَتَاهُ مِنْ حَلَاوَتِهَا، وَلَكِنَّ الْحُرِّيَّةَ ذَهَبَتْ وَوَلِيَهَا الْعَبِيدُ فَتَهَاوَنُوا بِهَا.حافظ ثناء اللہ
دارم بن عبدالحمید حنفی کہتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ ان سے نبیذ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ تو ان سے کہا گیا: اے ابن ابی رباح! یہ تو ہمیں مسجد میں پلاتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں نے اس کا ادراک کیا ہے اور آدمی جب اسے پیتا ہے تو اس کے ہونٹوں کو تو حلاوت ملتی ہے لیکن اس کی آزادی چلی جاتی ہے اور غلامی اس کا مقدر بن جاتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی ذلت کرو۔