السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17433
وَفِيمَا بَلَغَ حَدَّ الْإِسْكَارِ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، ⦗٥٢٦⦘ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے پتا چلا کہ آپ ﷺ روزے سے ہیں تو میں نے آپ ﷺ کی افطاری کی تیاری کی اور کدو کے برتن میں نبیذ بنایا، پھر میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا اور اس میں جھاگ بنی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس دیوار کے ساتھ مار دو، یہ تو ان کا پینا ہے جن کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں ہے۔“