حدیث نمبر: 17432
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السِّرَاجُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ تَنْتَبِذُ فِي مَزَادٍ لَهَا نَبِيذًا شَدِيدًا، قَالَ: فَإِذَا خَشِيتَ شِدَّتَهُ فَاكْسِرْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، لَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِالْكَسْرِ بِالْمَاءِ فِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ: إِذَا خَشِيَ شِدَّتَهُ قَبْلَ بُلُوغِهِ حَدَّ الْإِسْكَارِ بِدَلِيلِ قَوْلِهِ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَالْحَرَامُ لَا يُحِلُّهُ دُخُولُ الْمَاءِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

ابو حمزہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا اور حدیث بیان کی۔ میں نے کہا: کیا بنو عبدالقیس اتنی سخت نبیذ بناتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب سخت ہو جائے تو پانی ملا دو۔“ پھر اوپر والی حدیث ذکر کی، لیکن اس میں پانی ملانے والا ذکر نہیں کیا اور اس میں پانی ملانے کا حکم اس میں نشہ پیدا ہونے سے پہلے ہے اور نشہ حرام ہے جو پانی ملانے سے پاک نہیں ہو جاتا ہے کیونکہ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17432
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»