السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17430
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنُ صَاعِدٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: " لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ، وَلَا مُقَيَّرٍ، وَلَا ⦗٥٢٥⦘ دُبَّاءٍ، وَلَا حَنْتَمٍ، وَلَا مَزَادَةٍ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا فِي سِقَاءِ أَحَدِكُمْ غَيْرَ مُسْكِرٍ، فَإِنْ خُشِيَ شِرَّتُهُ فَلْيَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ " لَفْظُ ابْنِ مَنِيعٍ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاةِ وَرُوِيَ فِي الْكَسْرِ بِالْمَاءِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عبدالقیس کے وفد کو فرمایا تھا: ”تم لکڑی کے کھوکھلے برتن، رال لگے برتن، کدو کے برتن، سبز مٹکے اور بڑے مشکیزے میں نہ پیو، بلکہ اپنے مشکیزے میں وہ پیو جو نشہ آور نہ ہو، اور اگر اس کی سختی کا اندیشہ ہو تو اس پر پانی ڈال دے۔“
ایک جماعت نے اسے نوح بن قیس سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے، لہٰذا لگتا ہے کہ یہ کسی راوی کا قول ہے۔ اور پانی ملا کر سختی توڑنے کی بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔