السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في تحريم الخمر باب: شراب کی حرمت کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَمٌّ يَبِيعُ الْخَمْرَ وَكَانَ يَتَصَدَّقُ، فَنَهَيْتُهُ عَنْهَا فَلَمْ يَنْتَهِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْخَمْرِ وَثَمَنِهَا، فَقَالَ: هِيَ حَرَامٌ، وَثَمَنُهَا حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَوْ كَانَ كِتَابٌ بَعْدَ كِتَابِكُمْ، وَنَبِيٌّ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ لَأَنْزَلَ فِيكُمْ كَمَا أَنْزَلَ في مِنْ قَبْلِكُمْ، وَلَا أَخَّرَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَعَمْرِي لَهُوَ أَشَدُّ عَلَيْكُمْ قَالَ ثَابِتٌ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: سَأُخْبِرُكَ عَنِ الْخَمْرِ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَيْنَا هُوَ مُحْتَبٍ حَلَّ حَبْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ الْخَمْرِ شَيْءٌ فَلْيَأْتِ بِهَا " فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ: عِنْدِي رَاوِيَةٌ، وَيَقُولُ الْآخَرُ: عِنْدِي زِقٌّ، أَوْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْمَعُوا بِبَقِيعِ كَذَا وكَذَا، ثُمَّ آذِنُونِي " فَفَعَلُوا ثُمَّ أَتَوْهُ، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَمَشَيْتُ عَنْ يَمِينِهِ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَّرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَنِي عَنْ شِمَالِهِ، وَجَعَلَ أَبَا ⦗٤٩٩⦘ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَانِي، ثُمَّ لَحِقَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَّرَنِي وَجَعَلَهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَمَشَى بَيْنَهُمَا حَتَّى إِذَا وَقَفَ عَلَى الْخَمْرِ فَقَالَ لِلنَّاسِ: " أَتَعْرِفُونَ هَذِهِ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْخَمْرُ، فَقَالَ: " صَدَقْتُمْ "، قَالَ: " فَإِنَّ اللهَ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَائِعَهَا، وَمُشْتَرِيَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا "، ثُمَّ دَعَا بِسِكِّينٍ فَقَالَ: " اشْخِدُوهَا " فَفَعَلُوا، ثُمَّ أَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرِقُ بِهَا الزِّقَاقَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّ فِي هَذِهِ الزِّقَاقِ مَنْفَعَةً، فَقَالَ: " أَجَلْ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ غَضَبًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا فِيهَا مِنْ سَخَطِهِ "، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَكْفِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " لَا " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ فِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ أَبَا طُعْمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا شراب بیچتے تھے اور وہ اس (کی قیمت) سے صدقہ کیا کرتے تھے۔ میں ان کو منع کرتا تھا مگر وہ اس سے باز نہیں آتے تھے۔ میں مدینے کی طرف گیا، وہاں میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے آپ رضی اللہ عنہما سے شراب اور اس کی قیمت کے متعلق پوچھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے امتِ محمدیہ کے معاشرے کے لوگو! اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی اور کتاب ہوتی اور تمہارے نبی کے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو البتہ وہ تم میں اسی طرح نازل ہوتا جس طرح تم سے پہلے والوں میں نازل ہوئے تھے، اور تمہارے معاملے کو قیامت کے دن تک مؤخر نہیں کیا جائے گا، البتہ میری عمر کی قسم! یہ بات تم پر زیادہ سخت ہے۔
حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے ان سے شراب کے بارے میں پوچھا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عنقریب میں تمہیں شراب کے متعلق بتاؤں گا۔ میں مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے «اِحْتِبَاء» ”پیٹھ اور پنڈلیوں کو کپڑے سے ملا کر باندھنا“ کیا ہوا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اسے کھول دیا اور فرمایا: ”جس کے پاس بھی شراب میں سے کوئی چیز ہے وہ اسے لے آئے۔“ لوگ شراب لے آئے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس «رَاوِيَةٌ» ”بڑا مشکیزہ“ ہے، دوسرے نے کہا: میرے پاس «زِقٌّ» ”چمڑے کا تھیلا“ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بقیع میں جمع کر دو اور پھر مجھے اطلاع کرو۔“ پھر آپ ﷺ تشریف لائے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا، میں آپ ﷺ کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہوا تو آپ ﷺ مجھ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، آپ ﷺ نے انہیں دائیں طرف کر لیا اور مجھے بائیں طرف۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو بھی اپنے بائیں طرف کر لیا۔ پھر ان دونوں کے درمیان سے آپ ﷺ شراب کے پاس آئے اور پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، یہ شراب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سچ کہتے ہو، اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، جس کے لیے نچوڑی جائے اس پر، اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر، ان تمام پر لعنت فرمائی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک چھڑی منگوائی اور فرمایا: ”اسے بہا دو۔“ انہوں نے ویسے ہی کیا اور آپ ﷺ خود ان شراب کے مشکیزوں کو پھاڑنے لگے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو عام استعمال کی اشیاء (برتن) ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ اس میں اللہ کی ناراضگی ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی جگہ یہ کام کر دیتا ہوں (آپ کے لیے کافی ہوں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“