السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن باب: ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17297
وَهُوَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي شَفَاعَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَإِنْكَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ: فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، كَذَا قَالَهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے سامان عاریتاً (مانگ کر) لیتی اور پھر اس کا انکار کر دیتی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ (پھر راوی نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی سفارش اور نبی ﷺ کی اس پر ناراضگی کا ذکر کیا) اور اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس مخزومی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔