السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن باب: ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17296
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أُتِيَ بِإِنْسَانٍ قَدِ اخْتَلَسَ مَتَاعًا فَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ زَيْدٌ: " لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ " قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَذَلِكَ مَنِ اسْتَعَارَ مَتَاعًا فَجَحَدَهُ، أَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَجَحَدَهَا، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِيهَا قَطْعٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فِي الْعَارِيَةِ.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس ایک ایسا انسان لایا گیا جس نے کوئی سامان چھینا تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کا ہاتھ کاٹے، پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف کسی آدمی کو بھیجا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں ان سے سوال کرے۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: چھیننے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جو مال چھینتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔