❮
❯
حدیث نمبر: 17298
وَكَذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ ⦗٤٨٧⦘ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ، يَعْنِي حُلِيًّا، عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ هِيَ، فَبَاعَتْهُ وَأَخَذَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا "، وَهِيَ الَّتِي تَشَفَّعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ وَخَالَفَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ..
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے کچھ جانے پہچانے لوگوں کا نام لے کر (زیور) عاریتاً لیا، جبکہ وہ خود پہچانی نہیں جاتی تھی، پھر اس نے اسے بیچ دیا اور (قیمت) رکھ لی۔ اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں جو فرمایا سو فرمایا۔
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ نے یونس سے روایت میں اس کی مخالفت کی ہے اور یوں کہا: زہری سے، وہ عروہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے نبی ﷺ کے زمانے میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی، پھر پوری حدیث ذکر کی، اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17298
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»