❮
❯
حدیث نمبر: 17275
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا سَرَقَ، فَقَالَ: " لَا إِخَالُهُ سَرَقَ " فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَرَقْتُ، قَالَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ "، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: " تُبْ إِلَى اللهِ "، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَابَ اللهُ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس نے چوری کی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! یہ میں نے چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر میرے پاس لے کر آؤ۔“ اس کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «تُبْ إِلَى اللَّهِ» ”اللہ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں نے اللہ سے توبہ کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ» ”اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17275
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»