السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء في تعليق اليد في عنق السارق باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17274
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ زَيْدَانَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقَرَّ عِنْدَهُ سَارِقٌ مَرَّتَيْنِ " فَقَطَعَ يَدَهُ، وَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ "، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدِهِ تَضْرِبُ صَدْرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور نے دو مرتبہ اقرار کیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا، گویا کہ میں اس کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ اسے سینے پر مار رہا تھا۔