کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: چوری کا اقرار کرنے اور پھر اس سے رجوع کر لینے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان، عطاء فرماتے ہیں: ”جب وہ ایک مرتبہ اعتراف کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا سَرَقَ، فَقَالَ: " لَا إِخَالُهُ سَرَقَ " فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَرَقْتُ، قَالَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ "، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: " تُبْ إِلَى اللهِ "، قَالَ: تُبْتُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَابَ اللهُ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس نے چوری کی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! یہ میں نے چوری کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اس کو داغ دو، پھر میرے پاس لے کر آؤ۔“ اس کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «تُبْ إِلَى اللَّهِ» ”اللہ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں نے اللہ سے توبہ کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ» ”اللہ نے تیری توبہ قبول کی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ الْبَزَّارِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ، رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَنَّ سَارِقًا سَرَقَ مَتَاعًا، فَأَخَذُوا مَعَهُ الْمَتَاعَ فَاعْتَرَفَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " لَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ، فَلَمَّا قُطِعَ قَالَ: " تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ: أَتُوبُ إِلَى اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کوئی سامان چوری کیا۔ وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا، اس نے اعتراف کیا، اس کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ» ”میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے۔“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ پھر آپ ﷺ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر جب ہاتھ کاٹا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ سے توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما!“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ، أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَرَقْتُ قَطُّ قَبْلَهَا، فَقَالَ: " كَذَبْتَ مَا كَانَ اللهُ لِيُسْلِمَ عَبْدًا عِنْدَ أَوَّلِ ذَنْبِهِ، فَقَطَعَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، چور نے کہا: میں نے اس سے پہلے کبھی چوری نہیں کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو جھوٹ کہہ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں کہ وہ کسی بندے کا گناہ پہلی مرتبہ ظاہر کر دے، پھر اس کا ہاتھ کاٹا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ⦗٤٨٠⦘ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، " أَنَّهُ أُتِيَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ سَرَقَتْ، فَقَالَ لَهَا: سَرَقْتِ؟ قُولِي: لَا، فَقَالَتْ: لَا، فَخَلَّى عَنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک سیاہ لونڈی لائی گئی جس نے چوری کی تھی، انہوں نے اس سے کہا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔ اس نے کہا: نہیں، پس انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أُتِيَ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ بِامْرَأَةٍ سَرَقَتْ جَمَلًا، فَقَالَ: " أَسَرَقْتِ؟ قُولِي: لَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے ایک اونٹ چوری کیا تھا۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہہ دے: نہیں۔