السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: السارق يعود فيسرق ثانيا وثالثا ورابعا باب: چور کا دوسری، تیسری اور چوتھی مرتبہ چوری کرنے کے احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامَلَ الْيَمَنِ ظَلَمَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ، ثُمَّ إِنَّهُمُ افْتَقَدُوا حُلِيًّا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ وَيَقُولُ: اللهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ، فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغً، وَإِنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَ بِهِ، فَاعْتَرَفَ الْأَقْطَعُ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي مِنْ سَرِقَتِهِ ".حضرت عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی یمن سے تھا، اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور پاؤں بھی کٹا ہوا تھا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ یمن کے عامل نے اس پر ظلم کیا ہے۔ وہ رات کو نماز پڑھتا تھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے: ”تیرے باپ کی قسم! تیری رات چور کی رات نہیں ہے۔“ پھر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، اور وہ آدمی ان کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”اے اللہ! تو پکڑ اس کو جس نے اس نیک گھر والوں کے ہاں رات کو چوری کی۔“ ہار سنار کے پاس پایا گیا اور معلوم ہوا کہ وہی ہاتھ کٹا آدمی اسے لایا تھا، تو اس نے اعتراف کیا یا اس پر گواہی دی گئی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تو اس کا بایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کی بددعائیں اپنے نفس کے خلاف میرے نزدیک چوری سے زیادہ سخت ہیں۔“