❮
❯
حدیث نمبر: 17262
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: " أُتِيَ بِالسَّارِقِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا غُلَامٌ لِأَيْتَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَاللهِ مَا نَعْلَمُ لَهُمْ مَالًا غَيْرَهُ، فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّانِيَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ فَتَرَكَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ السَّادِسَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ السَّابِعَةَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الثَّامِنَةَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهُوَ أَصَحُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ مَسْعَدَةَ ⦗٤٧٥⦘ وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَابْنَ سَابِطٍ الْأَحْوَلَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَبْدٍ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ بُلُوغَهُ فِي الْمَرَّاتِ الْأَرْبَعِ، أَوْ لَمْ يَرَ سَرِقَتَهُ بَلَغَتْ مَا يُوجِبُ الْقَطْعَ، ثُمَّ رَآهَا تُوجِبُهُ فِي الْمَرَّاتِ الْأُخَرِ، فَأَمَرَ بِالْقَطْعِ، وَهَذَا الْمُرْسَلُ يُقَوِّي الْمَوْصُولَ قَبْلَهُ، وَيُقَوِّي قَوْلَ مَنْ وَافَقَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن حارث بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک چور لایا گیا، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ انصار کے کچھ یتیموں کا غلام ہے، اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ اس کے علاوہ ان کا کوئی اور مال (ہے)“، تو اسے چھوڑ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ لایا گیا، اسے چھوڑ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ لایا گیا، پھر چھوڑ دیا۔ پھر چوتھی مرتبہ لایا گیا، پھر چھوڑ دیا۔ پھر پانچویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا، پھر چھٹی مرتبہ لایا گیا تو اس کا پاؤں کاٹا، پھر ساتویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا، پھر آٹھویں مرتبہ لایا گیا تو اس کا پاؤں کاٹا۔
حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ والی روایت زیادہ صحیح ہے، اور یہ صحیح سند کے ساتھ حسن مرسل ہے۔
نبی ﷺ کے پاس ایک غلام لایا گیا (اور اسی معنی کی روایت ذکر کی)، گویا کہ آپ ﷺ نے پہلی چار مرتبہ اس کی چوری کو اس حد تک پہنچا ہوا نہیں سمجھا جس پر ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، پھر بعد کی مرتبہ اسے واجب کرنے والا سمجھا تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ مرسل روایت اپنے سے پہلی موصول روایت کو تقویت دیتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17262
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»