السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء في العبد الآبق إذا سرق باب: مفرور (بھاگے ہوئے) غلام کے چوری کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17235
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ فَسَرَقَ فِي إِبَاقِهِ، فَأُتِيَ بِهِ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: " لَنْ يُنْجِيَكَ إِبَاقُكَ مِنْ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، قَالَ: فَقَطَعَهُ ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے چوری کی اور بھاگ گیا، اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو کہا: ہرگز تیرا بھاگنا اللہ تعالیٰ کی حدوں سے نجات نہیں دے سکتا، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹا۔