❮
❯
حدیث نمبر: 17236
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ أَخَذَ عَبْدًا آبِقًا قَدْ سَرَقَ فَكَتَبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّ الْعَبْدَ الْآبِقَ إِذَا سَرَقَ لَمْ يُقْطَعْ، فَكَتَبَ عُمَرُ: " إِنَّ اللهَ يَقُولُ: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ ⦗٤٦٧⦘ حَكِيمٌ} [المائدة: ٣٨]، فَإِنْ بَلَغَتْ سَرِقَتُهُ رُبْعَ دِينَارٍ أَوْ أَكْثَرَ فَاقْطَعْهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ قَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَغَيْرِهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَذْهَبُ إِلَى أَنْ لَيْسَ عَلَى الْآبِقِ الْمَمْلُوكِ قَطْعٌ إِذَا سَرَقَ، وَقَدْ تَرَكْنَا عَلَيْهِ قَوْلَهُ إِلَى قَوْلِ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ؛ لِأَنَّهُ أَشْبَهُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَا تَزِيدُهُ مَعْصِيَةُ اللهِ بِالْإِبَاقِ خَيْرًا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ

رزیق بن حکیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک غلام کو پکڑا جو بھاگ گیا تھا اور چوری کر چکا تھا۔ اس غلام کے متعلق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف خط لکھا کہ میں نے سنا ہے جو بھاگا ہوا غلام چوری کرے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ پھر عمر رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان لکھا: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة المائدة: 38] ”چاہے مرد چوری کرے یا عورت، دونوں کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ ہے جو انھوں نے کمایا اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔“ اگر اس کی چوری کی قیمت ربع دینار یا اس سے زیادہ ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ قول قاسم بن محمد اور سالم بن عبداللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ کا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب یہ ہے کہ بھاگا ہوا غلام جب چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہم نے اس میں ان کا قول چھوڑ کر دوسرے صحابہ کا قول اختیار کیا ہے، کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کے زیادہ مشابہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بھاگ کر اللہ کی نافرمانی کرنا اسے کوئی بھلائی نہیں دیتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض ضعیف راویوں نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17236