السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء في العبد الآبق إذا سرق باب: مفرور (بھاگے ہوئے) غلام کے چوری کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17234
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ سَرَقَ وَهُوَ آبِقٌ، فَأَرْسَلَ بِهِ عَبْدُ اللهِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، لِيَقْطَعَ يَدَهُ، فَأَبَى سَعِيدٌ أَنْ يَقْطَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: لَا تُقْطَعُ يَدُ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: " فِي أِيِّ كِتَابِ اللهِ وَجَدْتَ هَذَا؟ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے چوری کی اور بھاگ گیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس کو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ مدینہ کے امیر تھے (اس کے پاس اس لیے بھیجا) تاکہ وہ اس کا ہاتھ کاٹے، ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چوری کر کے بھاگ جائے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو نے یہ بات اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے؟ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔