السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: المجنون يصيب حدا باب: پاگل شخص کے کوئی حد والا جرم کر بیٹھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدِ انْطُلِقَ بِهَا لِتُرْجَمَ، فَأَخَذَهَا مِنْهُمْ فَخَلَّى سَبِيلَهَا، فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلَّى سَبِيلَهَا فَقَالَ: ادْعُوهُ لِي، فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْغُلَامِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ " وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ عَلِيٌّ: وَأَنَا لَا أَدْرِي.ظبیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے گناہ کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کو رجم کر دو تو وہاں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ گزرے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جان لیا کہ اس کو رجم کر رہے ہیں تو اس عورت کو پکڑا اور اسے اس کے راستے پر چھوڑ دیا۔ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اس کے راستے پر چھوڑ دیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”علی رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔“ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا ہے: ۱۔ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے، ۲۔ سویا ہوا آدمی یہاں تک کہ بیدار ہو جائے، ۳۔ مجنون یہاں تک کہ صحیح ہو جائے۔“ یہ فلاں کی بیٹی پاگل ہے، شاید اس کو فلاں چیز دی اس میں کوئی آزمائش ہو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا۔“ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا: ”میں بھی نہیں جانتا۔“