السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: المجنون يصيب حدا باب: پاگل شخص کے کوئی حد والا جرم کر بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17213
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ⦗٤٦١⦘ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ: ”تین چیزوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: (1) بچہ یہاں تک کہ عاقل ہوجائے، (2) سویا ہوا یہاں تک کہ بیدار ہوجائے اور (3) مجنون یہاں تک کہ ٹھیک ہوجائے۔“