حدیث نمبر: 17211
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى عَلِيٍّ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ زَنَتْ، وَهِيَ تُرْجَمُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَرْتَ بِرَجْمِ فُلَانَةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ "؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهَا فَخَلَّى عَنْهَا وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ مُرْسَلًا مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے کسی قبیلے کی ایک پاگل عورت گزری جس نے زنا کر لیا تھا اور اس کو رجم کیا جانا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے فلانہ کے متعلق رجم کا حکم دیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں! میں نے حکم دیا تھا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول ذکر نہیں کیا تھا کہ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ» ”تین چیزوں سے قلم کو اٹھا لیا گیا ہے: 1۔ سونے والا جب بیدار ہو جائے، 2۔ بچہ بالغ ہو جائے، 3۔ پاگل جب صحیح ہو جائے۔““ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17211
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»