حدیث نمبر: 17210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمُبْتَلَاةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمَرَّ بِهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي ⦗٤٦٠⦘ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالصِّبْيَانُ يَتْبَعُونَهَا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: امْرَأَةٌ أَمَرَ عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، قَالَ: فَرَدَّهَا وَذَهَبَ مَعَهَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يُفِيقَ، وَالنَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَالصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَوَكِيعٌ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْصُولًا مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل (عورت) لائی گئی جس نے گناہ کیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، تو وہاں سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گزرے اور دو بچے جو اس کو تلاش کر رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ایسی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ اس کو رجم کیا جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔“ اور وہ اس کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ جانتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ» ”تین افراد سے قلم کو اٹھا لیا ہے“: (1) پاگل سے یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے، (2) سونے والا جب بیدار ہو جائے اور (3) بچہ جب عقل مند ہو جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السرقة / حدیث: 17210
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»