السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء عن الصحابة رضي الله عنهم فيما يجب به القطع باب: جن صورتوں میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، ان کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 17194
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا أَبِي، ثنا عَاصِمٌ أَظُنُّهُ ابْنَ عُمَرَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّزَّالِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " ⦗٤٥٥⦘ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَلَا يَكُونُ الْمَهْرُ أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " هَذَا إِسْنَادٌ يَجْمَعُ مَجْهُولِينَ وَضُعَفَاءَ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنُ مَسْعُودٍ فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَخَالَفَهُ الْمَسْعُودِيُّ فَرَوَاهُ مُرْسَلًا كَمَا مَضَى، وَالَّذِي رَوَى فِي مُعَارَضَتِهِ لَيْسَ بِأَضْعَفَ مِنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر دس درہموں میں اور حق مہر دس درہموں سے کم میں نہیں ہوتا۔
یہ سند مجہول اور ضعیف راویوں پر مشتمل ہے۔ اور رہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تو وہ منقطع ہے، اسے ابوحنیفہ سے، انہوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابن مسعود سے روایت کیا گیا ہے، اور مسعودی نے ان کی مخالفت کی اور اسے مرسلاً روایت کیا جیسا کہ گزر چکا، اور جو اس کے مقابلے میں روایت کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ ضعیف نہیں۔