السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: ما جاء عن الصحابة رضي الله عنهم فيما يجب به القطع باب: جن صورتوں میں ہاتھ کاٹنا واجب ہوتا ہے، ان کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی آثار کا بیان۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: قَدْ رُوِّينَا قَوْلَنَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ: رَوَاهُ الزَّعَافِرِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَصْحَابُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، وَحَدِيثُ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ أَوْلَى أَنْ يَثْبُتَ مِنْ حَدِيثِ الزَّعَافِرِيِّ، قَالَ: فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ "، قُلْنَا: فَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عَزَّةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ سَارِقًا فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ " وَهَذَا أَقْرَبُ أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا عَنْ عَبْدِ اللهِ مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: فَكَيْفَ لَمْ تَأْخُذُوا بِهَذَا؟ قُلْنَا: هَذَا حَدِيثٌ لَا يُخَالِفُ حَدِيثَنَا، إِذَا قَطَعَ فِي ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ قَطَعَ فِي خَمْسَةٍ أَوْ أَكْثَرَ، قَالَ: فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمْ يَقْطَعْ فِي ثَمَانِيَةِ دَرَاهِمَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: رِوَايَتُهُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرُ صَحِيحَةٍ، وَقَدْ رَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، فَلَمْ نَرَ أَنْ نَحْتَجَّ بِهِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِثَابِتٍ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةٌ، وَعَلَى الْمُسْلِمِينَ اتِّبَاعُ أَمْرِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا إِلَى حَدِيثٍ صَحِيحٍ ذَهَبَ مَنْ خَالَفَنَا، وَلَا إِلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ مَنْ تَرَكَ الْحَدِيثَ وَاسْتَعْمَلَ ظَاهِرَ الْقُرْآنَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَمَّا رِوَايَةُ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ الزَّعَافِرِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَطْعِ، فَلَمْ أَقِفْ عَلَيْهَا بَعْدُ، وَإِنَّمَا رِوَايَتُهُ فِي أَقَلِّ الصَّدَاقِ، وَقَدْ أَنْكَرَهَا عَلَيْهِ عُلَمَاءُ عَصْرِهِ، فَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى أَيْضًا فِي الْقَطْعِ فَهُوَ مُنْكَرٌ، وَدَاوُدُ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: مُظْلِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”چار یا اس سے زیادہ دینار پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ زعافری کی حدیث سے ثابت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ”ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر دس درہموں میں۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”نبی ﷺ نے پانچ دراہم پر چور کا ہاتھ کاٹا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تین یا پانچ یا اس سے زیادہ دراہم پر کیسے ہاتھ کاٹو گے؟“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آٹھ درہموں کے بدلے ہاتھ نہیں کاٹا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”چوتھائی یا اس سے زیادہ دینار پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ ہم نے اس پر کوئی دلیل بھی نہیں دیکھی، وہ ثابت نہیں ہے اور کسی کے پاس بھی نبی ﷺ سے یہ دلیل نہیں ہے اور مسلمانوں پر اس کے حکم کی اتباع ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو کسی نے صحیح بیان نہیں کیا، لیکن نہ اس نے ہماری مخالفت کی ہے اور نہ کسی نے اسے چھوڑا ہے اور وہ اس حدیث کو قرآن کے ظاہر پر استعمال کرتے ہیں۔