السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: اختلاف الناقلين في ثمن المجن، وما يصح منه وما لا يصح باب: ڈھال کی قیمت بیان کرنے والے راویوں کے اختلاف، اور اس میں سے جو صحیح ہے اور جو صحیح نہیں ہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17175
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قُلْتُ لِبَعْضِ النَّاسِ: " هَذِهِ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا "، فَكَيْفَ قُلْتَ: لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا؟ وَمَا حُجَّتُكَ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْ رُوِّينَا عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَيْمَنَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبِيهًا بِقَوْلِنَا، قُلْتُ: أَتَعْرِفُ أَيْمَنَ؟ إِنَّمَا أَيْمَنُ الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَطَاءٌ فَرَجُلٌ حَدَثٌ، لَعَلَّهُ أَصْغَرُ مِنْ عَطَاءٍ، وَرَوَى عَنْهُ عَطَاءٌ حَدِيثًا عَنْ تَبِيعٍ ابْنِ امْرَأَةِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبٍ، فَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَالْحَدِيثُ الْمُنْقَطِعُ لَا يَكُونُ حُجَّةً، قَالَ: فَقَدْ رَوَى شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، أَخِي أُسَامَةَ لِأُمِّهِ، قُلْتُ: لَا عِلْمَ لَكَ بِأَصْحَابِنَا، أَيْمَنُ أَخُو أُسَامَةَ قُتِلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَبْلَ أَنْ يُولَدَ مُجَاهِدٌ، وَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَدِّثَ عَنْهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ، غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بعض لوگوں سے کہا: ”سنتِ رسول ﷺ یہ ہے کہ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جائے، تو آپ کیسے کہتے ہیں کہ دس دراہم یا اس کے کچھ زیادہ پر ہاتھ کاٹیں گے؟ آپ کی اس پر دلیل کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ہمیں ایک روایت ایمن نے بیان کی ہے۔ میں نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو ایمن کون ہے؟ ایمن سے عطاء روایت کرتے ہیں، یہ ایک بدعتی آدمی تھا اور عطاء سے چھوٹا تھا۔ یہ حدیث منقطع ہے اور یہ حجت نہیں ہے۔“