السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السرقة— چوری کا بیان
باب: اختلاف الناقلين في ثمن المجن، وما يصح منه وما لا يصح باب: ڈھال کی قیمت بیان کرنے والے راویوں کے اختلاف، اور اس میں سے جو صحیح ہے اور جو صحیح نہیں ہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17176
فَهُوَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ تَبِيعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، وَصَلَّى بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَتَعَلَّمَ مَا يَقْتَرِئُ فِيهِنَّ، كُنَّ لَهُ بِمَنْزِلَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ " ⦗٤٥٠⦘ وَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ وَاسْتَدَلَّ هُوَ وَغَيْرُهُ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّ حَدِيثَهُ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ مُنْقَطِعٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے وضو کیا اور بہترین وضو کیا، پھر اس نے عشاء کی نماز پڑھی اور اس کے بعد چار رکعتیں اور پڑھیں اور ان میں رکوع و سجود بھی مکمل کیے تو یہ اس کے لیے «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» کے برابر ہوں گی۔