السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد الذميين باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا، مِنْ عُزَيْنَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَحْبَارَ يَهُودَ اجْتَمَعُوا فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ زَنَى مِنْهُمْ رَجُلٌ بَعْدَ إِحْصَانِهِ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ أَحْصَنَتْ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا بِهَذَا ⦗٤٣١⦘ الرَّجُلِ وَبِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَى مُحَمَّدٍ فَسَلُوهُ: كَيْفَ الْحَكَمُ فِيهِمَا؟ وَوَلُّوهُ الْحُكْمَ عَلَيْهِمَا، فَإِنْ عَمِلَ بِعَمَلِكُمْ فِيهِمَا مِنَ التَّجْبِيَةِ، وَهُوَ الْجَلْدُ بِحَبْلٍ مِنْ لِيفٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ ثُمَّ يُسَوَّدُ وُجُوهُهُمَا ثُمَّ يُحْمَلَانِ عَلَى حِمَارَيْنِ وَيُحَوَّلُ وُجُوهُهُمَا مِنْ قُبُلٍ إِلَى دُبُرِ الْحِمَارِ، فَاتَّبِعُوهُ وَصَدِّقُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ مَلِكٌ، وَإِنْ هُوَ حَكَمَ فِيهِمَا بِالرَّجْمِ، فَاحْذَرُوا عَلَى مَا فِي أَيْدِيكُمْ أَنْ يَسْلُبَكُمُوهُ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ هَذَا الرَّجُلُ قَدْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ بِامْرَأَةٍ قَدْ أَحْصَنْتَ، فَاحْكُمْ فِيهِمَا فَقَدْ وَلَّيْنَاكَ الْحُكْمَ فِيهِمَا، فَمَشَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى أَحْبَارَهُمْ فِي بَيْتِ الْمِدْرَاسِ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَخْرِجُوا إِلِيَّ أَعْلَمَكُمْ " فَأَخْرَجُوا إِلَيْهِ عَبْدَ اللهِ بْنَ صُورِيَا الْأَعْوَرَ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ بَنِي قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ أَخْرَجُوا إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ مَعَ ابْنِ صُورِيَا أَبَا يَاسِرِ بْنَ أَخْطَبَ وَوَهْبَ بْنَ يَهُوذَا، فَقَالُوا: هَؤُلَاءِ عُلَمَاؤُنَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَطِلَ أَمْرُهُمْ، إِلَى أَنْ قَالُوا لِابْنِ صُورِيَا: هَذَا أَعْلَمُ مَنْ بَقِيَ بِالتَّوْرَاةِ، فَخَلَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ غُلَامًا شَابًّا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَأَلَظَّ بِهِ الْمَسْأَلَةَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ: " يَا ابْنَ صُورِيَا أَنْشُدُكَ اللهَ وَأُذَكِّرُكَ أَيَّامَهُ عِنْدَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ حَكَمَ فِيمَنْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ بِالرَّجْمِ فِي التَّوْرَاةِ؟ " فَقَالَ: اللهُمَّ نَعَمْ، أَمَا وَاللهِ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّهُمْ لَيَعْرِفُونَ أَنَّكَ نَبِيُّ مُرْسَلٌ، وَلَكِنَّهُمْ يَحْسِدُونَكَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِهِ فِي بَنِي غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، ثُمَّ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ ابْنُ صُورِيَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ} [المائدة: ٤١]، إِلَى قَوْلِهِ: {سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ} [المائدة: ٤١] يَعْنِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوهُ وَبَعَثُوا وَتَخَلَّفُوا وَأَمَرُوهُمْ بِمَا أَمَرُوهُمْ بِهِ مِنْ تَحْرِيفِ الْحُكْمِ عَنْ مَوَاضِعِهِ، قَالَ: {يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ} [المائدة: ٤١] لِلتَّجْبِيَةِ {وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ} [المائدة: ٤١] أَيِ الرَّجْمِ {فَاحْذَرُوا} [المائدة: ٤١]، إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے تو تمام یہود بیت المدراس میں جمع ہو گئے اور ان میں سے ایک شادی شدہ مرد و عورت نے زنا کر لیا تو وہ کہنے لگے: ”ان دونوں کو محمد ﷺ کے پاس لے چلو، وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر وہ تمہیں اس کا حکم دیں کہ ان کے منہ کالے کر کے گدھے پر بٹھائے جائیں اور کوڑے مارے جائیں تو وہ بادشاہ ہیں، ان کی بات مان لینا۔ اگر وہ تمہیں رجم کا حکم دیں تو ان کی بات چھوڑ دینا۔“ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور بتایا کہ انھوں نے زنا کیا ہے اور شادی شدہ ہیں اور کہا کہ آپ فیصلہ فرمائیں تو نبی ﷺ بیت المدراس کی طرف گئے اور لوگوں کو کہا: ”اپنے سب سے بڑے علما کو نکالو۔“ تو انھوں نے عبداللہ بن صوریا اعور کو نکالا اور کہا: ”یہ ہمارے عالم ہیں۔“ بنو قریظہ کے ایک شخص نے بتایا کہ انھوں نے ابن صوریا کے ساتھ ابو بن اخطب اور وہب بن پھوذا کو نکالا اور کہا: ”یہ ہمارے علما ہیں۔“ جب ان میں آپس میں اختلاف ہوا تو انھوں نے ابن صوریا پر فیصلہ چھوڑ دیا اور کہا: ”یہی تورات کے سب سے بڑے عالم ہیں۔“ چنانچہ آپ ﷺ ابن صوریا کو تنہائی میں لے گئے اور وہ نوجوان تھا، آپ ﷺ نے اس سے مسئلے میں غور و فکر کیا اور اسے اللہ کی قسم اور اللہ کی بنی اسرائیل پر نعمتیں یاد دلا کر پوچھا: ”کیا شادی شدہ زانی کے لیے تورات میں رجم نہیں ہے؟“ اس نے کہا: «وَاللّٰهِ نَعَمْ» ”اللہ کی قسم! ہاں ہے، لیکن اے ابوالقاسم! یہ جانتے ہیں کہ آپ مبعوث نبی ہیں لیکن یہ آپ سے حسد کرتے ہیں۔“ تو نبی ﷺ نکلے اور مسجد بنو غنم بن مالک کے دروازے کے پاس ان کو رجم کر دیا۔ اس کے بعد ابن صوریا نے کفر کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿یَا أَیُّهَا الرَّسُولُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ﴾ سے لے کر ﴿لَمْ یَأْتُوكَ﴾ [سورة المائدة: 41] تک، یعنی وہ لوگ جو آپ کے پاس نہیں آئے اور انھوں نے بھیجا اور خود پیچھے رہ گئے اور انھوں نے لوگوں کو اس کا حکم دیا جو انھیں حکم نہیں دیا گیا تھا، یعنی انھوں نے احکامات میں تحریف کر ڈالی اور وہ کہتے کہ اگر وہ تمہیں «التَّجْبِيَةُ» ”تتجبیہ“ کا حکم دیں تو لے لینا اور اگر رجم کا حکم دیں تو چھوڑ دینا۔