حدیث نمبر: 17114
وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْإِمَامَ مُخَيَّرٌ فِي الْحُكْمِ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ حَكَمَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: عَلَيْهِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ وَلَيْسَ لَهُ الْخِيَارُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ: {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ}، فَفِي هَذِهِ الْآيَةِ بَيَانٌ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ جَعَلَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِيَارَ فِي الْحُكْمِ بَيْنَهُمْ أَوْ يُعْرِضُ عَنْهُمْ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ إِنْ حَكَمَ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ} [المائدة: 49]: إِنْ حَكَمْتَ، لَا عَزْمًا أَنْ تَحْكُمَ.
حافظ ثناء اللہ

اور جس نے یہ کہا کہ امام کو ان (اہل کتاب) کے درمیان فیصلہ کرنے میں اختیار ہے، اور اگر وہ فیصلہ کرے تو اسی کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ عزوجل نے نازل فرمایا ہے، اور جس نے یہ کہا کہ اس پر ان کے درمیان فیصلہ کرنا لازم ہے اور اسے (فیصلہ نہ کرنے کا) اختیار نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ’پس اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا ان سے منہ پھیر لیں۔‘ [سورة المائدة: 42] تو اس آیت میں، واللہ اعلم، اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ اختیار دیا کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرمائیں، اور آپ ﷺ پر یہ لازم کیا کہ اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے اہل علم میں سے ایک ایسے شخص کو، جن (کے علم) سے میں مطمئن ہوں، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ﴾ ’اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔‘ [سورة المائدة: 49] کے بارے میں یہ کہتے سنا: (اس کا مطلب ہے کہ) اگر آپ فیصلہ کریں (تو اس کے مطابق کریں)، یہ لازمی حکم نہیں کہ آپ (ضرور) فیصلہ کریں۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالَا: " إِذَا ارْتَفَعَ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ إِنْ شَاءَ حَكَمَ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ أَعْرَضَ عَنْهُمْ، فَإِنْ حَكَمَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ جب غیر مسلم مسلمان حکام کے پاس فیصلہ لائیں تو وہ چاہیں تو کر دیں اور نہ چاہیں تو نہ کریں، اگر فیصلہ کریں تو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق کریں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17114
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»