السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في نفي الرقيق باب: غلاموں کو جلاوطن کرنے کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17097
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ: " إِذَا زَنَى الْعَبْدُ أَوِ الْأَمَةُ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فَعَلَ ذَلِكَ جَلْدُ خَمْسِينَ، وَلَا تَغْرِيبَ عَلَى مَمْلُوكٍ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: مَنْ أَصَابَ حَدًّا وَهُوَ مَمْلُوكٌ فَلَمْ يُقَمْ عَلَيْهِ حَتَّى عَتَقَ فَعَلَيْهِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو زناد رحمہ اللہ فقہائے اہل مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب غلام یا لونڈی زنا کر لے تو ان میں سے ہر ایک پر پچاس کوڑے ہیں، جلا وطنی ان پر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو اسے پہنچا ہے وہ مملوک ہے، لہٰذا اس پر غلام ہی کی حد ہے۔