السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد المماليك باب: غلاموں کی حد کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " إِحْصَانُ الْأَمَةِ دُخُولُهَا فِي الْإِسْلَامِ وَإِقْرَارُهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الْإِسْلَامِ وَأَقَرَّتْ بِهِ ثُمَّ زَنَتْ فَعَلَيْهَا جَلْدُ خَمْسِينَ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لونڈی کا احصان اس کا اسلام میں دخول ہے اور جب وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد زنا کا اقرار کرے تو اسے پچاس کوڑے لگیں گے۔ ابراہیم رحمہ اللہ ﴿فَإِذَا أُحْصِنَّ﴾ [سورة النساء: 25] کا ترجمہ مسلمان ہونا اور مجاہد رحمہ اللہ شادی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اگر اس کی شادی نہیں ہوئی تو اس پر کوئی حد نہیں۔ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مجاہد رحمہ اللہ اسی طرح روایت کرتے ہیں۔