السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حد المماليك باب: غلاموں کی حد کے بارے میں وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17093
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، " أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ مُقَرِّنٍ، أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: عَبْدِي سَرَقَ مِنْ عَبْدِي قَبَاءً، قَالَ: مَالِكَ سُرِقَ بَعْضُهُ فِي بَعْضٍ، قَالَ: أَظُنُّهُ ذَكَرَ أَمَتِي زَنَتْ، قَالَ: فَاجْلِدْهَا، قَالَ: إِنَّهَا لَمْ تُحْصَنْ، قَالَ: إِسْلَامُهَا إِحْصَانُهَا " وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ، وَقَالَ: إِحْصَانُهَا إِسْلَامُهَا.حافظ ثناء اللہ
معقل بن مقرن رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میرے غلام نے میرے غلام کی قبا چوری کر لی ہے، تو انہوں نے فرمایا: تیرے مال نے تیرے مال کو چوری کیا ہے، اور اپنی لونڈی کا ذکر کیا کہ اس نے زنا کر لیا ہے، انہوں نے فرمایا: اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا: وہ محصنہ نہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس کا اسلام ہی اس کے لیے احصان ہے۔