السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من زنى بامرأة مستكرهة باب: جس شخص نے کسی عورت سے زبردستی (جبرًا) زنا کیا ہو اس کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ نَحْنُ بِامْرَأَةٍ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا النَّاسُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَقْتُلُوهَا، وَهُمْ يَقُولُونَ: زَنَتْ زَنَتْ، فَأَتَى بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهِيَ حُبْلَى، وَجَاءَ مَعَهَا قَوْمُهَا، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا بِخَيْرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَخْبِرِينِي عَنْ أَمْرِكِ، قَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ امْرَأَةً أُصِيبُ مِنْ هَذَا اللَّيْلِ، فَصَلَّيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ نِمْتُ، وَقُمْتُ وَرَجُلٌ بَيْنَ رِجْلِيَّ، فَقَذَفَ فِيَّ مِثْلَ الشِّهَابِ ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ قَتَلَ هَذِهِ مَنْ بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ، أَوْ قَالَ: الْأَخْشَبَيْنِ شَكَّ أَبُو خَالِدٍ لَعَذَّبَهُمُ اللهُ، فَخَلَّى سَبِيلَهَا وَكَتَبَ إِلَى الْآفَاقِ: أَنْ لَا تَقْتُلُوا أَحَدًا إِلَّا بِإِذْنِي.نزال بن سبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مکہ میں تھے کہ ایک عورت کے گرد لوگ جمع ہو گئے، قریب تھا کہ وہ اسے مار دیتے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اس نے زنا کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اسے لایا گیا تو اس کی قوم بھی ساتھ آئی اور انہوں نے اس عورت کی بھلائی بیان کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اپنا معاملہ بیان کرو۔ وہ کہنے لگی: اے امیر المومنین! میں رات نماز پڑھ کر سو گئی تو میں بیدار ہوئی تو ایک شخص میری ٹانگوں کے درمیان تھا اور اس نے بجلی کی تیزی سے میرے ساتھ یہ کر دیا اور پھر بھاگ گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ان دو پہاڑوں کے درمیان اسے قتل کر دیا جاتا تو اللہ ان کو عذاب دیتا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور تمام عمال کو لکھ دیا کہ میری اجازت کے بغیر کسی کو قتل نہ کرنا۔