حدیث نمبر: 17017
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ، إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ، بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ} [الأعراف: 81]، وَقَالَ فِي نُزُولِ الْعَذَابِ بِهِمْ: {فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ، وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ} [هود: 82].
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ، إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ، بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ﴾ ”اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا؟ بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔“ [سورة الأعراف: 80-81]
اور ان پر عذاب نازل ہونے کے بارے میں فرمایا: ﴿فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ، وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾ ”پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس (بستی) کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا اور اس پر تہ بہ تہ کنکریلے پتھر برسائے، جو تیرے رب کے ہاں سے نشان زدہ تھے، اور وہ (بستی) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔“ [سورة هود: 82-83]

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ⦗٤٠٣⦘ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ كَمِهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہے اس پر جو ناحق والی بنتا ہے، جو زمین پر قبضہ کرتا ہے، جو نابینا کو راستے سے بھٹکاتا ہے، جو اپنے والدین پر لعنت کرتا ہے، جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے، جو جانور سے بدفعلی کرتا ہے اور جو قومِ لوط والا عمل کرتا ہے، اس پر تین مرتبہ اللہ کی لعنت ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 17017
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»