السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: الضرير في خلقته لا من مرض يصيب الحد باب: جو پیدائشی طور پر نابینا ہو نہ کہ کسی بیماری کی وجہ سے، اور اس پر حد لازم ہو جائے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 17010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُوسَى، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ وَلِيدَةً، فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَتْ مِنَ الزِّنَا، فَسُئِلَتْ مَنْ أَحْبَلَكِ؟ قَالَتْ: أَحْبَلَنِي الْمُقْعَدُ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَضَعِيفٌ عَنِ الْجَلْدِ "، فَأَمَرَ بِمِائَةِ عُثْكُولٍ فَضَرَبَهُ بِهَا وَاحِدَةً قَالَ عَلِيٌّ: كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لونڈی عہدِ رسالت میں حاملہ ہوگئی، اس سے پوچھا گیا کہ تجھے کس نے حاملہ کیا ہے؟ کہنے لگی: اس اپاہج نے، تو اس سے پوچھا گیا، اس نے اعتراف کرلیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوڑے اس سے برداشت نہیں ہوں گے، لہٰذا اسے سو لکڑیوں کے ایک گچھے سے ایک دفعہ مار دو۔“