السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: الضرير في خلقته لا من مرض يصيب الحد باب: جو پیدائشی طور پر نابینا ہو نہ کہ کسی بیماری کی وجہ سے، اور اس پر حد لازم ہو جائے تو اس کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 17009
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا رَجُلٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ، فَلَمْ نُرَعْ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا، فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اجْلِدُوهُ مِائَةَ ⦗٤٠١⦘ سَوْطٍ " فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ هُوَ أَضْعَفُ مِنْ ذَاكَ، لَوْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةَ سَوْطٍ مَاتَ، قَالَ: " فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ وَاحِدَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک اپاہج آدمی رہتا تھا جو اپنے گھر کی ایک لونڈی پر واقع ہوگیا، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات جا کر نبی ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے سو کوڑے مارو۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کمزور اور اپاہج ہے، اگر اسے سو کوڑے لگے تو وہ مر جائے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی ایسی جھاڑو لے لو جس میں سو تیلیاں ہوں، پھر اسے اس کے ساتھ ایک ہی ضرب لگا دو۔“