السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: لا يقام حد الجلد على الحبلى ولا على مريض دنف، ولا في يوم حره شديد أو برده مفرط، ولا في أسباب التلف باب: حاملہ عورت، شدید بیمار، انتہائی گرم یا شدید سرد دن میں، اور ہلاکت کا باعث بننے والے اسباب کی موجودگی میں کوڑے مارنے کی حد قائم نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17004
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ الْبَغْدَادِيُّ بِبُخَارَا، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ السَّوَّاقُ، ثنا ⦗٣٩٩⦘ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ زَنَى فَأَقِيمُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَإِنْ كَانَ قَدْ أُحْصِنَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنَّ خَادِمًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهَا لِأَضْرِبَهَا فَوَجَدْتُهَا حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِنِفَاسِهَا، وَخَشِيتُ إِنْ أَنَا ضَرَبْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا، فَرَدَدْتُ عَنْهَا حَتَّى تُمَاثِلَ وَتَشْتَدَّ، قَالَ: " أَحْسَنْتَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.حافظ ثناء اللہ
ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! جو بھی غلام یا لونڈی زنا کرے، اس پر حد لگاؤ، اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ نبی ﷺ کی ایک خادمہ نے زنا کر لیا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے حد لگانے کے لیے بھیجا، تو میں نے اسے حالتِ نفاس میں پایا، مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں نے اسے مارا تو یہ مر جائے گی۔ اس وقت میں نے اسے چھوڑ دیا، جب وہ ٹھیک ہو گئی تو میں نے اسے مارا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا۔“