السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: الرجل يقر بالزنا دون المرأة باب: عورت کے بجائے (صرف) مرد کے زنا کا اقرار کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْقَاسِمُ ابْنُ أَخِي خَلَّادٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ، فَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ " فَانْتَهَرَهُ فَجَلَسَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " اجْلِسْ " ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا حَدُّكَ؟ " قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبَّاسٌ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ: " انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ " وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا نَجْلِدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا " فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ قَالَ لَهُ: " مَنْ صَاحِبَتُكَ؟ " قَالَ: فُلَانَةٌ، لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ، فَدَعَاهَا فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: كَذَبَ، وَاللهِ مَا أَعْرِفُهُ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِئيَةٌ، اللهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شُهُودُكَ أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ؟ فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا، وَإِلَّا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا لِي شُهَدَاءُ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ بنو لیث بن بکیر کا ایک شخص لوگوں کو روندتا ہوا آیا یہاں تک کہ وہ آپ کے قریب آگیا اور کہنے لگا: ”مجھ پر حد قائم کیجیے۔“ آپ نے اسے ڈانٹ کر بٹھا دیا، لیکن اس نے تین مرتبہ اسی طرح کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم پر کس چیز کی حد ہے؟“ اس نے کہا: ”زنا کی۔“ آپ کے صحابہ میں سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اسے کوڑے لگاؤ۔“ وہ غیر شادی شدہ تھا۔ آپ ﷺ سے کہا گیا: ”یا رسول اللہ! اس عورت کو حد نہیں لگانی، جس کے ساتھ اس نے ایسا کیا ہے؟“ تو آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور اس سے اس عورت کا پوچھا تو اس نے بنو بکر کی ایک عورت کا نام لیا۔ جب اس عورت سے معلوم کروایا تو اس نے قسم اٹھا کر انکار کر دیا اور کہا: ”اللہ میرا گواہ ہے۔“ تو آپ ﷺ نے اس شخص سے پوچھا: ”تیرے پاس کوئی گواہ ہے کہ تو نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو پھر آپ ﷺ نے اسے حد قذف کے اسی کوڑے لگوائے۔