السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: المعترف بالزنا يرجع عن إقراره فيترك باب: زنا کا اعتراف کرنے والا اپنے اقرار سے رجوع کر لے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17001
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَاعِزٍ لَمَّا ذَهَبَ: " هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ، فَلَعَلَّهُ ⦗٣٩٨⦘ يَتُوبُ فَيَتُوبَ اللهُ عَلَيْهِ " وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا هَزَّالُ لَوْ كُنْتَ سَتَرْتَ عَلَيْهِ بِثَوْبِكَ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ مِمَّا صَنَعْتَ ".حافظ ثناء اللہ
ہزال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ماعز رضی اللہ عنہ کے بھاگنے کے بعد اسے پکڑ کر رجم کر دیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تم نے اسے چھوڑا کیوں نہیں؟ شاید وہ توبہ کر لیتا؟ اے ہزال! اگر تو اسے کپڑے سے ڈھانپ لیتا تو جو تو نے کیا ہے اس سے بہتر ہوتا۔“