السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: المعترف بالزنا يرجع عن إقراره فيترك باب: زنا کا اعتراف کرنے والا اپنے اقرار سے رجوع کر لے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17000
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ، فَمَرَّ رَجُلٌ مَعَهُ لَحْيُ بَعِيرٍ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَذُكِرَ فِرَارُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَفَلَا تَرَكْتُمُوهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نے آ کر نبی ﷺ کے سامنے زنا کا اقرار کیا، پھر مکمل حدیث بیان کی۔ آخر میں یہ ہے کہ جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا لیکن حرہ کے مقام پر پکڑ کر اسے اونٹ کی ہڈی ماری گئی تو وہ مر گیا۔ جب نبی ﷺ کو اس کے بھاگنے کا بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا!“