السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهُوَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ مَاعِزًا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعًا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ قَالَ: " زَنَيْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " وَتَدْرِي مَا الزِّنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا، مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلَالًا، قَالَ: " مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا الْقَوْلِ؟ " قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَدْخَلْتَ ذَلِكَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ مِنْهَا، كَمَا يَغِيبُ الْمِيلُ فِي الْمُكْحُلَةِ، وَالْعَصَا فِي الشَّيْءِ؟ " أَوْ قَالَ: " الرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ " قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَمَرَ ⦗٣٩٧⦘ بِرَجْمِهِ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَلَمْ تَرَ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ فَقَالَ: " أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ قُومَا فَانْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ" فَقَالَا: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يُؤْكَلُ مِثْلُ هَذَا؟ قَالَ: " فَمَا نِلْتُمَا مِنْ أَخِيكُمَا آنِفًا شَرٌّ مِنْ هَذَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّسُ فِيهَا".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ماعز نے نبی ﷺ کے سامنے پانچ مرتبہ زنا کا اعتراف کیا، تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”جانتے ہو زنا کیا ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، کہ جس طرح آدمی بیوی کے پاس حلال طریقے سے آتا ہے، تو غیر بیوی کے ساتھ ویسا حرام طریقے سے کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: مجھے پاک کر دیجیے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے ایسے کیا تھا جیسے سرمچو سرمہ دانی میں، یا لاٹھی کسی چیز میں داخل کی جائے، یا ڈول کنویں میں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔ اسے رجم کر دیا گیا، تو دو شخص باتیں کر رہے تھے کہ اللہ نے اس پر پردہ ڈالا تھا، لیکن اس نے خود ظاہر کر کے کتے کی طرح رجم ہو گیا۔ نبی ﷺ نے یہ بات سن لی۔ پھر چلے اور ایک گدھے کی سڑی ہوئی لاش کے پاس سے گزرے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”فلاں فلاں کہاں ہیں؟“ وہ دونوں کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس گدھے کی اس سڑی ہوئی لاش سے کھاؤ۔“ وہ کہنے لگے: اللہ آپ کو معاف فرمائے، اس سے کون کھائے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے بارے میں تم نے جو بات کہی تھی وہ اس کے کھانے سے بھی زیادہ بری تھی اور اللہ کی قسم! میں نے ابھی دیکھا کہ ماعز جنت کی نہر میں غوطہ لگا رہا ہے۔“