السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، يُقَالُ لَهُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنْ لَا يُخْرِجَهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَمَا أَوْثَقْنَاهُ، وَلَا حَفَرْنَا لَهُ، قَالَ: فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ، قَالَ: فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ، يَعْنِي الْحِجَارَةَ، حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنَ الْعِشَاءِ قَالَ: " أَكُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ، عَلَى أَنْ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ " قَالَ: فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَلَا سَبَّهُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَسُؤَالُهُ قَوْمَهُ بَعْدَ اعْتِرَافِهِ مِرَارًا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَشُكُّ فِي عَقْلِهِ.سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک شخص جس کا نام ماعز رضی اللہ عنہ تھا، نبی ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے زنا کا اعتراف کیا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض کر لیا۔ جب اس نے بار بار اس کا اصرار کیا تو آپ ﷺ نے اس کی قوم سے پوچھا: ”کیا ماعز پاگل تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: ہم نے تو اس میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی۔ نبی ﷺ نے اسے رجم کا حکم دے دیا۔ ہم اسے بقیع الغرقد کی طرف لے آئے، ہم نے نہ اسے باندھا، نہ زمین میں گاڑا اور پتھروں سے اسے مارا تو وہ تکلیف کی وجہ سے بھاگا۔ ہم نے اسے حرہ کے مقام پر جا کر پکڑ لیا اور اسے وہاں مارا تو وہ مر گیا، تو نبی ﷺ نے شام کو عشاء کے وقت خطبہ دیا تو فرمایا: ”ہم کسی بھی غزوے میں جاتے ہیں تو ایک مرد کو نائب بنا جاتے ہیں اس وجہ سے کہ اگر کوئی ایسا کرے تو وہ اسے عبرت کا نشان بنا دے۔“ آپ ﷺ نے نہ ماعز رضی اللہ عنہ کو برا کہا اور نہ استغفار کی۔