السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما جاء في حفر المرجوم والمرجومة باب: رجم کیے جانے والے مرد اور عورت کے لیے گڑھا کھودنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ فَقَالَ: ⦗٣٨٥⦘ يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي زَنَيْتُ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ " فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ " ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُونَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، هَلْ تَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا، أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا؟ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، وَلَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، فَأَتَاهُ مِنَ الْغَدِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ طَهِّرْنِي، فَإِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ كَمَا سَأَلَهُمْ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، وَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةٌ فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ.سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! مجھ سے زنا ہو گیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مجھے پاک کیا جائے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس لوٹ جاؤ۔“ دوسرے دن وہ پھر آ گئے تو نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا: ”لوٹ جاؤ۔“ اور آپ ﷺ نے ان کی قوم کی طرف ایک آدمی بھیجا کہ: ”جاؤ پوچھ کر آؤ کہ ماعز کو کیا ہوا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ کیا اس کی عقل میں کچھ (خرابی) ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ہم نے تو ان میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی۔“ وہ تیسرے دن پھر آ گئے تو نبی کریم ﷺ نے پھر ان کی قوم سے پوچھا تو وہی جواب ملا، تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا، پھر ان کے لیے گڑھا کھودا گیا اور سینے تک سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو اس میں گاڑا گیا اور پھر رجم کیا گیا۔