السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: المرجوم يغسل ويصلى عليه ثم يدفن باب: رجم کیے گئے شخص کو غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور پھر اسے دفن کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 16953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ وَرَجْمِهَا وَسَبِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِيَّاهَا، قَالَ: فَسَمِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ: " مَهْلًا يَا خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، لَا تَسُبَّهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ " فَأَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ قصہ غامدیہ اور اس کے رجم کے متعلق فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے گالی دی، نبی ﷺ نے ان کی گالی سن لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! رک جاؤ، اسے گالی نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر (ناجائز) ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اسے بخش دیا جاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا، اس پر نماز پڑھی اور اسے دفن کر دیا گیا۔