السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: المرجوم يغسل ويصلى عليه ثم يدفن باب: رجم کیے گئے شخص کو غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور پھر اسے دفن کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، " أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَائْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ".سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے ولی سے فرمایا: ”اس کے ساتھ احسان کرنا، جب یہ وضع حمل کر دے تو پھر اسے لے کر آنا۔“ اس نے ویسا ہی کیا، پھر جب وہ دوبارہ آئی تو آپ ﷺ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور پھر آپ ﷺ نے اس پر نماز بھی پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یا رسول اللہ ﷺ! اس نے تو زنا کیا تھا اور آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان کو کافی ہو جائے، کیا تو نے اس سے بھی افضل کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے لیے پیش کر دیا۔“ [صحیح]