السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على أن جلد المائة ثابت على البكرين الحرين ومنسوخ عن الثيبين، وأن الرجم ثابت على الثيبين الحرين باب: ان دلائل کا بیان کہ سو کوڑے مارنا دو آزاد غیر شادی شدہ افراد پر ثابت ہے اور شادی شدہ سے منسوخ ہے، اور یہ کہ رجم کی سزا دو آزاد شادی شدہ افراد پر ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 16922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمَ أَبُو بَكْرٍ، وَرَجَمْتُ، وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَزِيدَ فِي كِتَابِ اللهِ لَكَتَبْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ أَقْوَامٌ فَلَا يَجِدُونَهُ فَلَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور میں نے رجم کیا ہے۔ واللہ! اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں کتاب اللہ میں زیادتی کر رہا ہوں تو اسے مصحف میں لکھ دیتا اور مجھے ڈر ہے کہ ایسی قومیں آئیں گی جو اسے قرآن میں نہیں پائیں گی تو اس پر ایمان نہیں لائیں گی۔