السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: ما يستدل به على أن جلد المائة ثابت على البكرين الحرين ومنسوخ عن الثيبين، وأن الرجم ثابت على الثيبين الحرين باب: ان دلائل کا بیان کہ سو کوڑے مارنا دو آزاد غیر شادی شدہ افراد پر ثابت ہے اور شادی شدہ سے منسوخ ہے، اور یہ کہ رجم کی سزا دو آزاد شادی شدہ افراد پر ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 16919
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ⦗٣٧٠⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أُحْصِنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوِ الِاعْتِرَافُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”رجم کتاب اللہ میں ہے، ہر شادی شدہ مرد و عورت زانی پر جب وہ یا تو اعتراف کر لیں یا کوئی دلیل ہو یا حمل ہو جائے۔“