حدیث نمبر: 16917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَقَالَ الْآخَرُ، وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: " تَكَلَّمْ " قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، إِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ " وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً، وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالْعَسِيفُ: الْأَجِيرُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو شخص نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے اور کہنے لگے: ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کیجیے، اور دوسرے نے بھی یہی بات کہی، وہ دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا، کہنے لگا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں بات کروں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بولو“، تو کہنے لگا: میرا بیٹا اس کے ہاں کام کرتا تھا تو اس کی بیوی سے اس نے زنا کر لیا، تو مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اس کے بدلے سو بکریاں فدیے میں دے دیں اور اپنی ایک لونڈی، پھر میں نے اہل علم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی بیوی پر رجم ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں، تیرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، بکریاں اور لونڈی تجھے واپس ملیں گی اور اس کی بیوی پر رجم ہے۔“ اور سیدنا انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ: ”جاؤ اس عورت سے پوچھو؛ اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو۔“ اس نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحدود / حدیث: 16917
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»