السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16825
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ رَجُلًا سَارَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَدْرِ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْمِرُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللهُ عَنْهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا۔ یہ نہیں پتہ کیا کہہ رہا تھا۔ جب نبی ﷺ نے خود ظاہر کیا کہ وہ منافقین میں سے ایک شخص کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں! لیکن اس کی گواہی (کا کوئی اعتبار) نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کا اسے کوئی فائدہ تو نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کو قتل کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔“